سپریم کورٹ کے فیصلے سے فائدہ اٹھانے والے ممالک پر مزید ٹیرف لگائیں گے، ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے والے ممالک پر مزید سخت ٹیرفز لگائیں گے۔

صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرے گا، اسے مزید ٹیرفز اور اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ بطور صدر انہیں ٹیرف کی منظوری کے لیے کانگریس سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے، اور وہ امریکی معیشت اور تجارت کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کرنے کے حق میں ہیں۔

یہ بیان امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک پر لگائے گئے اضافی ٹیرفز کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔

عدالت نے کہا تھا کہ جو قانون استعمال کیا گیا وہ قومی ایمرجنسی کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن وہ صدر کو دیگر ممالک پر اضافی ٹیرف لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ عالمی سطح پر امریکی تجارتی مفادات کو حفاظت دینے اور کسی ملک کو غیر منصفانہ فائدہ اٹھانے سے روکنے کے لیے سخت اقدامات جاری رکھیں گے۔

ان کے مطابق یہ فیصلہ صرف امریکہ کے اقتصادی مفادات کی حفاظت کے لیے ہے اور اس میں کسی ملک کی تجارتی آزادی محدود کرنے کا مقصد نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پولیس میں نئی بھرتیاں جاری، ابھی اپلائی کریں اور موقع نہ گنوائیں

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس اعلان سے بین الاقوامی تجارتی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے اور کئی ممالک کو امریکی مارکیٹ میں مزید ٹیرف اور تجارتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان عالمی تجارت اور امریکہ کے تجارتی پارٹنرز کے لیے ایک واضح انتہائی سنجیدہ انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں بین الاقوامی تجارت میں نئے تنازعات سامنے آسکتے ہیں۔

Scroll to Top