پاکستان کے اسٹار فاسٹ بالر شاہین شاہ آفریدی نے ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک نیا سنگ میل عبور کرتے ہوئے 134 وکٹیں حاصل کر کے اس فارمیٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے پاکستانی بالر کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔
یہ تاریخی سنگ میل شاہین نے ایک اہم بین الاقوامی میچ کے دوران حاصل کیا، جس میں انہوں نے سابق ریکارڈ ہولڈر حارث رؤف (133 وکٹیں) کو پیچھے چھوڑ دیا۔
شاہین کی تیز رفتار بولنگ، سوئنگ اور نئی گیند سے ابتدائی وکٹیں لینے کی صلاحیت نے انہیں محدود اوورز کرکٹ میں پاکستان کا اہم ہتھیار بنا دیا ہے۔
کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ شاہین آفریدی کی مسلسل کارکردگی اور دباؤ میں وکٹیں لینے کی قابلیت انہیں عالمی سطح پر نمایاں مقام دلا رہی ہے۔
شائقین کرکٹ نے اس تاریخی کامیابی پر شاہین کو زبردست مبارکباد پیش کی ہے اور ان کی شاندار کارکردگی کو سراہا ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے شاہین کی یہ کارکردگی نہ صرف اعزاز کا باعث ہے بلکہ مستقبل میں ٹیم کی فتح میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں : ٹی20 ورلڈ کپ:سنسنی خیز مقابلے کے بعد انگلینڈ نے پاکستان کو شکست دے دی
ٹی 20 ورلڈ کپ کے سپر 8 مرحلے کے اہم میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو اعصاب شکن مقابلے کے بعد 2 وکٹوں سے شکست دے دی ہے۔
پاکستان کی جانب سے دیا گیا 165 رنز کا ہدف انگلش ٹیم نے آخری اوور میں 8 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کیا۔
اس میچ کی خاص بات کپتان ہیری بروک کی شاندار سنچری تھی جس نے ہارے ہوئے میچ میں اپنی ٹیم کی واپسی یقینی بنائی۔
پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 164 رنز بنائے تھے۔ اوپنر صاحبزادہ فرحان نے 45 گیندوں پر 63 رنز کی دلکش اننگز کھیلی، جبکہ بابر اعظم اور فخر زمان نے 25، 25 رنز کا حصہ ڈالا۔
ایک وقت پر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پاکستان بڑا اسکور کرنے میں کامیاب ہو جائے گا لیکن انگلینڈ کے لیام ڈوسن کی تباہ کن بولنگ (3 وکٹیں) نے مڈل آرڈر کو بے بس کر دیا۔
165 رنز کے ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کی شروعات انتہائی مایوس کن تھی، جہاں شاہین شاہ آفریدی نے قہر ڈھاتے ہوئے جوز بٹلر سمیت ٹاپ آرڈر کو تتر بتر کر دیا۔ شاہین نے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ محمد نواز اور عثمان طارق نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔
ایک طرف سے وکٹیں گرنے کے باوجود ہیری بروک ڈٹے رہے اور محض 50 گیندوں پر 100 رنز بنا کر میچ کا نقشہ بدل دیا۔
انگلینڈ نے 19.1 اوورز میں ہدف حاصل کر کے قیمتی پوائنٹس حاصل کر لیے جبکہ پاکستان کو بہترین بولنگ کے باوجود فیلڈنگ اور مڈل آرڈر کی ناکامی کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔





