اسلام آباد ہائی کورٹ کے کوریڈور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی کی ویڈیو بنانے والے شخص سے پولیس نے موبائل فون چھین لیا۔
ذرائع کے مطابق پولیس نے سہیل آفریدی کے ساتھ موجود شخص سے موبائل فون چھین کر ویڈیو ڈیلیٹ کروائی۔ ویڈیو ڈیلیٹ کروانے کے بعد متعلقہ شخص کو موبائل فون واپس کر دیا گیا۔
عدالتی احکامات کے مطابق عدالت کے احاطے میں کسی بھی قسم کی موبائل فوٹیج بنانے پر پابندی عائد ہے، اور اس کا نفاذ ہائی کورٹ کے اندر سختی سے کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عدالتی قوانین اور احکامات کے تحت کیا گیا، اور موبائل فون واپس کیے جانے کے بعد کسی قسم کا نقصان یا گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
واقعے سے متعلق ذرائع نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ہائی کورٹ کوریڈور میں ویڈیو بنانا صرف معمول کی سرگرمی تھی، لیکن عدالتی پابندی کے پیش نظر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ویڈیو ڈیلیٹ کروائی۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب سہیل آفریدی اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے امور کے سلسلے میں موجود تھے، اور ان کے ساتھ کچھ افراد بھی موجود تھے جنہوں نے اس دوران ویڈیو بنانے کی کوشش کی۔





