اسلام آباد: وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ اگر افغان طالبان باز نہ آئے تو ان کا وجود بھی برقرار نہیں رہے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کا دو ٹوک فیصلہ ہے کہ دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے ساتھ کوئی مذاکرات یا بات چیت ممکن نہیں، اور جب تک دہشت گرد اپنے انجام تک نہیں پہنچ جاتے، مسلح افواج کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اگر دوبارہ ردعمل آیا تو اس کا بھی مؤثر جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ افغان رجیم نے باقاعدہ حکومت کا درجہ اختیار کیا ہے، بلکہ وہ بندوق کے زور پر مسلط ایک جتھہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : طالبان رجیم کے 274اہلکار جہنم واصل کئے گئے،ڈی جی آئی ایس پی آر
پاکستان کو جس دہشت گردی کا سامنا ہے، اس میں وہ مکمل طور پر ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان مختلف دہشت گرد تنظیموں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے اور یہ قابل قبول نہیں کہ پاکستان یا دنیا میں دہشت گردی کرنے والے عناصر وہاں پناہ لیں۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور آئی ایس پی آر نے ہمیشہ ذمہ دارانہ اور محتاط مؤقف اختیار کیا جو بعد ازاں درست ثابت ہوا۔ صورتحال واضح ہوتے ہی ڈی جی آئی ایس پی آر قوم کو تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹ کے اجلاس میں اتفاق رائے سے قرارداد منظور کی گئی ہے اور قومی اسمبلی میں بھی متفقہ قرارداد منظور ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور عوام دہشت گردوں کو دیے گئے بھرپور جواب پر مطمئن ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان افغانستا ن کےساتھ بہت اچھا کررہاہے ،مداخلت نہیں کروں گا ، امریکی صدر
رانا ثنااللہ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف صرف اپنی نہیں بلکہ پوری دنیا کی جنگ لڑ رہا ہے، عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی مکمل حمایت کرے۔
انہوں نے کہا کہ برادر اسلامی ممالک کو آن بورڈ لیا گیا ہے اور آئندہ بھی رکھا جائے گا، جبکہ قطر جیسے دوست ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت متحد ہے اور ملک کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔





