واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ معاملات بہتر انداز میں سنبھال رہا ہے اور وہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر سے پاک افغان کشیدگی کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کا احترام کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس عظیم وزیرِ اعظم اور جنرل ہیں اور قیادت مضبوط ہاتھوں میں ہے۔
JUST IN – President Trump backs Pakistan in war against Afghanistan:
Trump says he respect Pakistan’s Prime Minister and General alot
“Pakistan is doing terrifically well” pic.twitter.com/YqYjyCXPQZ
— Insider Paper (@TheInsiderPaper) February 27, 2026
امریکی صدر نے واضح کیا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھا کر رہا ہے، اس لیے وہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کریں گے۔
علاوہ ازیں صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران سے خوش نہیں ہیں تاہم جمعے تک مزید مذاکرات متوقع ہیں اور وہ ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے خلاف طاقت استعمال نہیں کرنا چاہتے، لیکن بعض اوقات طاقت کا استعمال ناگزیر ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : آپریشن غضب للحق میں بڑی کامیابی: کھرچر قلعہ تباہ، سیکیورٹی ذرائع
آپریشن غضب للحق کے تحت پاک فضائیہ اور زمینی افواج کی جانب سے افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا بھرپور اور مؤثر انداز میں منہ توڑ جواب دینے کا سلسلہ جاری ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ نے افغانستان کے صوبہ لغمان میں بڑی جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے اہم اسلحہ ڈپو، اے بی ایف بٹالین ہیڈکوارٹر اور ننگرہار بریگیڈ کو نشانہ بنا کر مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
اسی آپریشن کے تسلسل میں پاک فوج نے کھرچر قلعے پر بھی کاری ضرب لگائی ہے جہاں موجود اہم ملٹری تنصیبات کو ملیامیٹ کر دیا گیا ہے اور اس حملے میں کئی افغان خارجی جہنم واصل ہو چکے ہیں۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاک افغان بارڈر پر پاک فوج نے ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے نیو افغان-8 پوسٹ پر قبضہ کر لیا ہے جس کے بعد دشمن وہاں سے فرار ہو گیا جبکہ بعد ازاں اس پوسٹ کو دھماکہ خیز مواد سے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
مزید برآں، پاک فوج کے جوان افغانستان میں داخل ہو کر دشمن کی ایک اور اہم پوسٹ پر بھی قابض ہو گئے ہیں اور اس کامیاب کارروائی کے بعد علاقے کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : طالبان رجیم کے 274اہلکار جہنم واصل کئے گئے،ڈی جی آئی ایس پی آر
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ضلع کرم کے محاذ پر پاک فوج کے توپ خانے (آرٹلری) نے دشمن کے ٹھکانوں پر شدید اور مؤثر گولہ باری کی ہے۔ پاک فوج کی اس اچانک اور بھرپور کارروائی کے نتیجے میں دشمن کے دفاعی حصار بکھر کر رہ گئے ہیں۔
حیرت انگیز طور پر اس شدید گولہ باری کے جواب میں دشمن کی جانب سے معمولی مزاحمت یا ایک فائر تک نہیں کیا گیا جس سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ دشمن پاکستانی فوج کی ہیبت اور ضربِ شدید کے باعث اپنے ٹھکانے چھوڑ کر پسپا ہو چکا ہے۔
پاک فضائیہ نے افغانستان کے شہر قندھار میں ایک انتہائی اہم اور بڑا پٹرول ڈپو بھی تباہ کر دیا ہےجس سے دشمن کی سپلائی لائن کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کے 148 اے ڈی (AD) نے دشمن کے خلاف ایک انتہائی منظم اور تکنیکی کارروائی کی ہے۔ اے/کیو سی (A/QC) کے ذریعے تارخوبی کمپلیکس کے اطراف میں موجود آئی اے جی (IAG) کے زیرِ زمین بنکرز کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاک فوج کی اس کاری ضرب سے دشمن کے وہ خفیہ ٹھکانے بھی تباہ ہو گئے ہیں جنہیں وہ محفوظ ترین تصور کر رہے تھے۔
مہمند اور باجوڑ سیکٹرز سے پاک فوج نے دشمن کی جارحیت کا انتہائی سخت جواب دیتے ہوئے فارورڈ ٹھکانوں پر شدید پنشمنٹ فائر شروع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پریشن غضب للحق میں افغان طالبان کو تاریخی جانی و مالی نقصان، 297 کارندے ہلاک ہوچکےہیں ،وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ
مہمند سیکٹر سے دشمن کے ٹھکانوں کو بھاری دھماکوں اور شعلوں کی لپیٹ میں لے کر مرحلہ وار تباہ کیا جا رہا ہے جس کا بنیادی ہدف سرحد پار موجود عناصر کی جنگی استعداد کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے جبکہ باجوڑ سیکٹر سے بھی ٹی ٹی اے کے فارورڈ ٹھکانوں پر مؤثر گولہ باری کے نتیجے میں دشمن کی باقی ماندہ تنصیبات کو منظم انداز میں ملبے کا ڈھیر بنایا جا رہا ہے۔
پاک فضائیہ نے افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں ایک بڑی اور فیصلہ کن فضائی کارروائی کی ہے جس میں دشمن کے اہم فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس مؤثر حملے میں اے بی ایف بٹالین ہیڈکوارٹرز کو کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ ننگرہار بریگیڈ ہیڈکوارٹرز بھی اس کارروائی میں مکمل طور پر نیست و نابود ہو چکا ہے۔
پاک افغان سرحد پر جاری آپریشن غضب للحق کے دوران سکیورٹی فورسز نے ٹوپسار سیکٹر کے سامنے افغانستان کے علاقے زیگر گاؤں میں موجود ٹی ٹی اے کے اہم تربیتی کیمپ پر کاری ضرب لگائی ہے۔
پاک فوج کی کارروائی کے نتیجے میں دشمن کا کیمپ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے جبکہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق دس دہشت گردوں کے جہنم واصل ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
اس شدید کارروائی کے بعد کیمپ میں موجود پچیس سے تیس افراد کو بدحواسی کی حالت میں پیچھے کی جانب فرار ہوتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : افغان طالبان کے ترجمان کا پاک فوج کے جوان کی گرفتاری کا دعویٰ جھوٹا نکلا، سپاہی یاسین تیراہ پوسٹ پر ڈیوٹی دیتے ہوئے منظر عام پر آگئے
دشمن کی جانب سے شروع کی گئی بلااشتعال جارحیت کے جواب میں پاک فوج کی جانب سے شروع کیا گیا پنشمنٹ فائر پورے جاہ و جلال کے ساتھ جاری ہے اور تازہ ترین کارروائی میں پاک فوج نے سرحد پار افغانستان کے صوبے ننگرہار میں دشمن کے ایک بڑے اسلحہ ڈپو کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بناتے ہوئے مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی جانب سے دشمن کی جارحیت کے خلاف جاری آپریشن میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل کی گئی ہے جہاں جنوبی وزیرستان کے مقام پر پاک افغان سرحد پر پاکستانی سکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ٹی ٹی اے کی ایک اہم دفاعی پوسٹ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
اس کامیاب آپریشن کے نتیجے میں 8 ٹی ٹی اے کے خارجی جہنم واصل ہو چکے ہیں ،ہلاک ہونے والوں کی شناختی دستاویزات بھی برآمد کر لی گئی ہیں ۔





