ٹی ٹی پی یا پاکستان کسی ایک کا چنائو کرلیں ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا افغانستان کو دیا گیا دو ٹوک پیغام سوشل میڈیا پر پھر وائرل

اسلام آباد: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا افغانستان کے نام سخت اور دو ٹوک پیغام سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے دوہرا معیار قبول نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ افغانستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون کو ترجیح دیتا ہے یا کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کی سرپرستی جاری رکھنا چاہتا ہے۔

انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان کے بچوں کا خون افغانستان کے ہاتھوں بہایا جارہا ہے ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی جیسے عناصر نہ صرف پاکستان بلکہ خود افغانستان کے امن کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا افغانستان کو دیا گیا یہ پیغام سوشل میڈیا پر پھر تیزی سے وائرل ہورہا ہے جبکہ دوسری طرف پاک افواج کی طرف سے افغان طالبان کے خلاف آپریشن غضب للحق بھر پور طریقے سے جاری ہے اور دشمن کے ٹھکانوں اور دہشتگردوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے

یہ بھی پڑھیں : طالبان رجیم کے 274اہلکار جہنم واصل کئے گئے،ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر)لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق میںطالبان رجیم کے 274 اہلکاراور خوارج ہلاک جبکہ 400 سے زائد زخمی کردیے گئے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ طالبان رجیم کی 74 سے زائد پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کی گئیں اور 18 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں ہیں۔ دشمن کے 115 ٹینک، بکتربند گاڑیاں تباہ اور اے پی سیز کی جاچکی ہیں۔ فتنہ الہندوستان، فتنہ الخوارج کے 22 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ان ٹارگٹس میں افغان کے کور ہیڈکوارٹرز، بٹالین ہیڈکوارٹرز، دہشتگردوں کی پناہ گاہیں شامل تھیں، افغان فوسز اور خوارج اپنی لاشیں تک چھوڑ کے بھاگے۔ دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کو ایسا جواب دیا گیا جس کے وہ مستحق تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آپریشن میں اب تک پاکستانی فوج کے 12 سپوت شہید اور 27 زخمی ہوئے۔ قوم کو اپنے جوانوں پر فخر ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 21 اور 22 فروری کی شب پاکستانی افواج نے بارڈر کے قریب فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، افغان طالبان رجیم نے اسے بنیاد بناکر سوکالڈ ایکشن کیا۔ پاک افغان بارڈر پر 15 سیکٹرز میں 53 مقامات پر فائرنگ کی گئی، تمام 53 مقامات پر حملوں کو پسپا کیا گیا۔ پاکستان نے ایسا بھرپور جواب دیا کہ دنیا نے دیکھا۔

Scroll to Top