تل ابیب میں خفیہ بیٹھک کا پردہ فاش، مودی، ہیبت اللہ اور نیتن یاہو کا عالمی منصوبہ منظر عام پر آگیا۔
مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان ایک خفیہ سفارتی گٹھ جوڑ کے بارے میں دعوے سامنے آئے ہیں، جو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے اور مسلم ممالک کو آپس میں الجھانے کے مقصد سے کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، افغان عبوری قیادت کے سربراہ ہیبت اللہ اخونزادہ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان تل ابیب میں مبینہ طور پر ایک خفیہ مشاورت ہوئی، جس میں پاکستان کو افغانستان اور بھارت کے ذریعے مصروف رکھنے اور اسی دوران ایران کے خلاف اسرائیلی کارروائی کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ حکمت عملی حقیقت میں زیر غور رہی ہو تو اس کے اثرات نہایت دور رس ہو سکتے ہیں، کیونکہ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے ایران اور افغانستان دونوں کے ساتھ سرحد رکھتا ہے اور کسی بھی کشیدگی کا اثر پورے خطے کے بجائے براہ راست پاکستان پر پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ماضی میں بھارت اور اسرائیل کے دفاعی تعاون پر بھی عالمی توجہ رہی ہے، جبکہ بھارت اور ایران کے درمیان توانائی، بندرگاہی اور تجارتی منصوبے بھی بحث کا مرکز رہے ہیں۔ حالیہ سرحدی کشیدگی، خصوصاً 26 اور 27 فروری کو پاکستانی سرحدی علاقوں میں ہونے والے حملوں کے بعد صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے، جس میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بھرپور جواب دیتے ہوئے کئی شدت پسندوں کو ہلاک کیا اور اپنی پوزیشن مستحکم رکھی۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی خودمختاری اور سرحدی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی اور دفاعی اقدامات جاری رہیں گے۔ ایران کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات کی وجہ سے پاکستان خطے میں توازن قائم رکھنے کا خواہاں ہے۔
عالمی مبصرین اب یہ سوال کر رہے ہیں کہ آیا جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں نئی صف بندی بن رہی ہے، اور کیا بھارت، اسرائیل اور افغان طالبان پاکستان کے خلاف کوئی گٹھ جوڑ کر رہے ہیں؟ ان سوالات کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا، لیکن اس خفیہ بیٹھک کے انکشاف نے خطے میں کشیدگی اور سنسنی کو بڑھا دیا ہے۔





