الف خان شیرپاؤ
چارسدہ: ضلع بھر میں غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ پولیس نے یکم مارچ 2026 کو فارن ایکٹ کے تحت مختلف تھانوں میں 27 مقدمات درج کرکے 32 افغان شہریوں کو گرفتار کر لیا۔
پولیس حکام کے مطابق سال 2026 کے دوران اب تک 224 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 316 افغان شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
گرفتار افراد کو قانونی کارروائی کے لیے عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے، جس کے بعد انہیں ڈی پورٹ کرنے کا عمل مکمل کیا جاتا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی اور اس سلسلے میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : غیرقانونی مقیم افغان شہریوں کیخلاف کریک ڈاؤن میں تیزی،95گرفتار
جبکہ دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے انڈسٹریل ایریا زون سے لے کر راولپنڈی، مری، چکوال، جہلم اور اٹک تک ریاستی رٹ کے مؤثر نفاذ کے لیے بیک وقت مشترکہ سرچ اینڈ کومبنگ آپریشنز جاری ہیں۔
کارروائیوں کے دوران رہائشی علاقوں، بازاروں، بیسز اور حساس مقامات پر مرحلہ وار اسکریننگ کی گئی، اور مجموعی طور پر 580 سے زائد اہلکار بشمول پولیس، لیڈی پولیس، ایلیٹ، ڈولفن، سی ٹی ڈی، رینجرز اور انٹیلیجنس ادارے تعینات کیے گئے۔
اس آپریشن کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی ویزہ اسٹیٹس، رہائشی ریکارڈ اور شناختی دستاویزات کی جانچ اور ہولڈنگ سنٹرز کی طرف مرحلہ وار منتقلی ہے۔ اس دوران مجموعی طور پر 95 غیر قانونی افغان شہری گرفتار کیے گئے، جبکہ دیگر مشتبہ افراد کے خلاف قانونی کارروائیاں، منشیات و اسلحہ برآمدگی اور کرایہ داری قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔
ریاستی موقف کے مطابق پاکستان میں قیام صرف قانونی بنیادوں پر ممکن ہے، اور غیر رجسٹرڈ یا غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف مرحلہ وار اور بال امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔





