واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی 48 اہم شخصیات کو ہلاک کر دیا ہے اور ایرانی فوجی قیادت تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بیان ایک ویڈیو خطاب میں دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ بہت سے ایرانی فوجی اور حکومتی اہلکار اب ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کی تنصیبات، ایرانی فضائی دفاعی نظام، 9 بحری جہاز اور ایرانی بحریہ کی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاسداران انقلاب، ایرانی فوج اور پولیس ہتھیار ڈال دیں تو ان کے لیے استثنا ممکن ہے، لیکن ہتھیار نہ ڈالنے والوں کو موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ نے بتایا کہ اہداف کے حصول تک فوجی آپریشن جاری رہے گا اور اس دوران مزید امریکی فوجیوں کے ہلاک ہونے کا امکان موجود ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ امریکی فوج اپنے جانثاروں کا بدلہ لے گی اور امریکی شہری اور فوجی محفوظ رہیں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایرانی عوام کے ساتھ ہے اور ایرانی عوام کو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنا ملک واپس لینے کا موقع ملا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ ایران کی نئی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار، وائٹ ہاؤس کا بڑا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے اور ایران ایک بڑا اور مضبوط ملک ہونے کے باوجود امریکی فوج کے سامنے کمزور ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، قطر اور اردن کے لیڈروں سے رابطہ کیا ہے تاکہ خطے میں صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے بعد ایران میں جمہوریت قائم ہوگی اور بہت سے مثبت تبدیلیاں آئیں گی۔





