خلیج کے خطے میں ایرانی حملوں کے بعد کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ کویت سٹی کے قریب امریکی سفارتخانے کے قریب دھواں اٹھتے دیکھا گیا، جب کہ دوحہ، ابوظہبی اور منامہ میں دھماکوں کی گونج سنی گئی۔
کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق مینا الاحمدی آئل ریفائنری میں ملبہ گرنے سے دو کارکن معمولی زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز اور اے ایف پی کے مطابق جائے وقوعہ پر فائر فائٹرز اور ایمبولینسز پہنچ چکی ہیں۔
امریکی سفارتخانے نے اپنی ویب سائٹ پر شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفارتخانے کے قریب نہ جائیں، گھروں کی نچلی منزل پر پناہ لیں، کھڑکیوں سے دور رہیں اور غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں۔ سفارتخانے نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں میزائل اور ڈرون حملوں کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
اسی دوران بحرین کے دارالحکومت منامہ، قطر کے دارالحکومت دوحہ اور متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق دوحہ اور دبئی میں متعدد زور دار دھماکوں اور جنگی طیاروں کی پروازوں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔
عراق کے خودمختار کرد خطے کے دارالحکومت اربیل میں بھی شدید دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق عراقی فضائی دفاعی نظام نے اربیل انٹرنیشنل ائرپورٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو ناکام بنایا۔
بحرین کی وزارت داخلہ نے فضائی حملے کے سائرن فعال کر دیے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ منامہ کو ملانے والا شیخ خلیفہ بن سلمان پل بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
خطے میں جاری حملوں اور جوابی کارروائیوں کے پیش نظر خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے اور شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔




