تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوج کی بھرپور فضائی اور زمینی کارروائیوں کے خوف سے افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت میدان چھوڑ کر صوبہ بامیان میں روپوش ہو گئی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان قیادت کے کئی اعلیٰ عہدیداران خوف کے مارے پانچ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بامیان منتقل ہوئے ہیں جو اس وقت بھی بامیان ایئرپورٹ پر موجود ہیں۔
یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ افغان طالبان کی قیادت پاک فوج کے دباؤ اور مؤثر حملوں کے سامنے ٹھہرنے کی ہمت کھو چکی ہے۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ فرار پاکستان کی عسکری برتری کا منہ بولتا ثبوت ہے جس نے طالبان قیادت کو محفوظ پناہ گاہیں چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج کے چند بد معاشوں کو عام عوام میں چھپا کے یہ افغان طالبان ، پاک فوج کی کمزوری سے فائدہ اٹھاکر دھماکے تو کر سکتے ہیں کیوں کہ پاک فوج عوام پر حملہ نہیں کرتی مگر روایتی جنگ میں پاک فوج کو ہرانا اتنا آسان نہیں ۔
بامیان فرار ہونے والے ہیلی کاپٹر اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ طالبان قیادت اب براہِ راست عسکری چیلنج کا سامنا کرنے کے بجائے پیچھے ہٹنے کو ترجیح دے رہی ہے۔





