وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران اسرائیل تنازع کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑ رہے ہیں اور پاکستان بھی اس عالمی صورتحال سے متاثر ہو رہا ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ خطے سے آنے والے تیل پر انحصار کے باعث عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر یہاں بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں حکومت کو بعض مشکل اور غیر مقبول فیصلے کرنا پڑتے ہیں جو کسی خواہش کے تحت نہیں بلکہ ملکی معیشت کو محفوظ رکھنے اور قوم کو بڑے بحران سے بچانے کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے زور دیا کہ یہ وقت اختلاف بڑھانے کا نہیں بلکہ قومی اتحاد اور ذمہ داری کا ہے اور ہمیں بطور قوم ثابت کرنا ہوگا کہ ہم مشکل گھڑی میں یکجہتی اور حوصلے کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قیادت کو بھی اس وقت دانشمندانہ فیصلوں کے ساتھ ملک کو اس چیلنج سے نکالنا ہے۔
وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا، عوام اور ہر گھرانے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ قومیں آزمائش کے دور میں صبر، بچت اور کفایت شعاری کے ذریعے مشکلات کا مقابلہ کرتی ہیں، اگر ہم متحد رہیں تو کوئی بحران ہمیں زیادہ دیر تک نہیں روک سکتا۔





