ایران کا خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے جاری رکھنے کا اعلان

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ ایران خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا جاری رکھے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے تیار ہے تاہم اس کے لیے ہمسایہ ممالک کو اپنی فضائی، زمینی اور بحری حدود امریکا کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی ہوگی۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ صدر مسعود پزشکیان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مشروط آمادگی ظاہر کی تھی، انہوں نے کہا کہ اگر پڑوسی ممالک اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں تو ایران بھی اپنے حملے روک سکتا ہے۔

عباس عراقچی نے الزام عائد کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی صلاحیتوں، عزم اور نیت کا غلط اندازہ لگاتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی اس کوشش کو فوری طور پر سبوتاژ کر دیا، انہوں نے کہا کہ اگر ٹرمپ کشیدگی میں اضافہ چاہتے ہیں تو ایران کی مسلح افواج اس کے لیے طویل عرصے سے تیار ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایرانی حملوں میں کسی بھی ممکنہ اضافے کی ذمہ داری امریکی حکومت پر عائد ہوگی، ان کے مطابق ایک ہفتے کی اس غلط مہم جوئی نے پہلے ہی امریکہ کو 100 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچایا ہے جبکہ امریکی فوجیوں کی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ جب عالمی مارکیٹیں دوبارہ کھلیں گی تو اس کی معاشی لاگت مزید بڑھے گی اور اس کا بوجھ براہِ راست عام امریکی شہریوں اور پٹرول کی قیمتوں پر پڑے گا۔

عباس عراقچی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی نینشل اینیلی جنس کونسل پہلے ہی جنگ کی ناکامی سے متعلق رپورٹ دے چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران پر حملوں سے عالمی توانائی بحران پیدا ہوا، عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنا ترجیح ہے، ثانیہ عاشق

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دہائیوں کی ناکام کوششوں کے بعد بالآخر امریکہ کو اسرائیل کی جنگیں لڑنے کے لیے آمادہ کر لیا ہے، جس کا اصل نقصان امریکی عوام کو اٹھانا پڑے گا۔

Scroll to Top