پشاور ہائیکورٹ نے بار ایسوسی ایشنز کے انتخابات 2025-26 کے حوالے سے وکلاء کے ووٹنگ کے حق سے متعلق درخواستوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے بار ایسوسی ایشنز کے انتخابات کو فی الحال ملتوی کر دیا ہے۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ وکلاء کے ووٹنگ کے حق سے متعلق تمام تنازع کا فیصلہ پاکستان بار کونسل 15 روز کے اندر کرے۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر پاکستان بار کونسل مقررہ مدت میں فیصلہ نہ کر سکی تو اپیل کا حق متاثر تصور ہوگا۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ درخواست گزار براہِ راست پاکستان بار کونسل سے رجوع کریں جبکہ فی الحال کیس کے میرٹس پر کوئی رائے نہیں دی جا رہی۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور، سبکدوش بلدیاتی نمائندوں سے سرکاری اثاثوں کی واپسی کی ہدایات جاری
عدالت نے مزید قرار دیا کہ وکلاء برادری اپنے مسائل اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے حل کرے اور معاملہ مناسب فورم کو بھیج دیا گیا ہے۔
اسی طرح عدالت نے خیبرپختونخوا بار کونسل کی جانب سے بار کونسل رولز میں کی گئی ترمیم کے خلاف دائر درخواستیں نمٹا دیں۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کے پی بار کونسل نے رولز میں ترمیم کے ذریعے بقایا جات جمع نہ کرانے والے وکلاء کو ووٹ کے حق سے محروم کیا، جسے چیلنج کرتے ہوئے 13 دسمبر 2025 کے اعلامیہ کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔





