سونے سے پہلے پانی پینے والوں کے لیے اہم خبر

بیشتر افراد سونے سے قبل پانی پینے کی عادت رکھتے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ معمول صحت پر مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم میں پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنا دماغی اور جسمانی افعال کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

رات کو سونے سے قبل مناسب مقدار میں پانی پینے سے نیند کے دوران ڈی ہائیڈریشن سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے، جو سر درد، سانس کی بو اور جسمانی کمزوری جیسے مسائل کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مناسب ہائیڈریشن نظامِ ہاضمہ کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ رات کے دوران جسم ہاضمے کے عمل کو جاری رکھتا ہے، جس کے لیے پانی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اس سے قبض اور نظامِ ہاضمہ کی دیگر شکایات میں کمی اور صبح کے وقت آنتوں کی کارکردگی میں بہتری دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ پانی پینے سے بھوک میں کمی آتی ہے، جس سے رات کو زیادہ کھانے سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ سونے سے قبل مناسب مقدار میں پانی جسمانی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے، جس سے نیند کے معیار میں بہتری آ سکتی ہے۔

کچھ تحقیقات کے مطابق پانی کی مناسب مقدار ذہنی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے اور ڈپریشن و اینگزائٹی کی علامات میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سونے سے قبل زیادہ مقدار میں پانی پینے سے بعض مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ زیادہ پانی پینے کی صورت میں رات کے دوران بار بار پیشاب کے لیے اٹھنا پڑتا ہے، جس سے نیند کا تسلسل متاثر ہوتا ہے اور بے خوابی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ہارورڈ یونیورسٹی میں پاکستان کا نام نمایاں، عالمی سطح پر اہم ملک قرار دے دیا گیا

اس کے علاوہ بار بار نیند ٹوٹنے سے مجموعی نیند کا معیار بھی متاثر ہوتا ہے۔ ایسے افراد جو سینے کی تیزابیت (ایسڈ ریفلکس) کے شکار ہوتے ہیں، ان میں سونے سے قبل زیادہ پانی پینے سے علامات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس عادت میں اعتدال ضروری ہے، کیونکہ مناسب مقدار میں پانی فائدہ مند جبکہ زیادہ مقدار میں نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

اس حوالے سے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ پانی پینے کے معمول کو اپنی جسمانی ضرورت اور صحت کی صورتحال کے مطابق رکھا جائے۔

نوٹ: ماہرین صحت کے مطابق انفرادی طبی حالات کے پیش نظر معالج سے مشورہ ضروری ہے۔

Scroll to Top