حکومت نے ایندھن کی عالمی قلت کے پیش نظر بجلی کے نرخوں میں ممکنہ بڑے اضافے سے بچنے کے لیےپیک آورز کے دوران روزانہ سوا دو گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
پاور ڈویژن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شام 5 بجے سے رات 1 بجے کے درمیان بجلی کی فراہمی معطل رکھی جائے گی تاکہ مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم کر کے صارفین کو بجلی کی قیمتوں میں اچانک ہونے والے بڑے اضافے سے بچایا جا سکے۔
یہ صورتحال قطر کی جانب سے ایل این جی کی سپلائی معطل ہونے کے بعد پیدا ہوئی ہے جس کے باعث ملک میں ایندھن کی فراہمی کا چیلنج درپیش ہے۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ پیک آورز میں طلب کو مہنگے فرنس آئل سے پورا کرنے کی صورت میں بجلی کی قیمت میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافہ ہو سکتا تھا، تاہم اس پیک ریلیف اسٹریٹجی کے ذریعے اس اضافے کو محض ڈیڑھ روپے تک محدود رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ اس اقدام سے فی یونٹ تقریباً 3 روپے کی بچت ہوگی۔ حکومت کی ہدایت پر پاور پلانٹس کو 80 ایم ایم سی ایف ڈی مقامی گیس بھی فراہم کی گئی ہے تاکہ لوڈ مینجمنٹ کی ضرورت کو مزید کم کیا جا سکے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اس صورتحال کی براہ راست نگرانی کر رہے ہیں اور تمام تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فیڈر کی سطح پر لوڈ شیڈنگ کا شیڈول صارفین کے ساتھ شیئر کریں تاکہ عوام کو پیشگی آگاہی ہو۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی اجازت نہیں ہوگی اور مقامی خرابی کی صورت میں متعلقہ دفاتر صارفین کو فوری مطلع کریں گے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ تجارتی مراکز کو بروقت بند کر کے طلب میں کمی لانے میں تعاون کریں تاکہ بجلی کے نرخوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔





