اڈیالہ جیل کے باہرکارکنان پی ٹی آئی قیادت پر برس پڑے

اڈیالہ جیل کے باہرکارکنان پی ٹی آئی قیادت پر برس پڑے

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہرپاکستان تحریکِ انصاف کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے کارکن اپنی ہی پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور منتخب نمائندوں پر برس پڑے۔

 کارکنوں نے پارٹی کی موجودہ صورتحال اور قیادت کے رویے پر شدید سوالات اٹھائے اور اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔

ایک کارکن نے منتخب نمائندوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ایم پی اے اور ایم این اے صرف ٹک ٹاکر بن کر رہ گئے ہیں۔

انہوں نے مینا خان اور شفیع جان کا نام لیتے ہوئے شدید تنقید کی اور کہا کہ یہ لوگ اڈیالہ جیل نہیں آتے اور نہ ہی کارکنوں کی داد رسی کرتے ہیں، ان کا تمام وقت صرف سوشل میڈیا تک محدود ہو کر رہ گیا ہے جبکہ کارکن یہاں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔

ایک اورکارکن نے قیادت کو بے وفا قرار دیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کو ریڑھیوں سے اٹھا کر بڑی بڑی ذمہ داریاں دی گئیں، آج وہ وفادار ثابت نہیں ہو رہے۔

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہمیں موجودہ پی ٹی آئی لیڈر شپ پر اب رتی بھر اعتماد نہیں رہا کیونکہ یہ لوگ مشکل وقت میں کارکنوں کو تنہا چھوڑ کر غائب ہو چکے ہیں۔

احتجاج کے دوران تیسرے کارکن نے پارٹی میں بڑی تبدیلی کی تجویز دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عمران خان کی بہن علیمہ خانم (علیمہ باجی) کو فوری طور پر پارٹی کی سربراہی دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قیادت مصلحت پسندی کا شکار ہے اور عمران خان کا مقدمہ لڑنے کی سکت نہیں رکھتی، لہٰذا اب پارٹی کی باگ ڈور علیمہ خان کے حوالے کی جائے تاکہ کارکنوں کو نئی اور مخلص قیادت میسر آ سکے۔

Scroll to Top