فائیو جی نیلامی کے باوجود انٹرنیٹ سست کیوں؟ وزیراعظم نے تفصیلات مانگ لیں

فائیو جی نیلامی کے باوجود انٹرنیٹ سست کیوں؟ وزیراعظم نے تفصیلات مانگ لیں

ملک بھر میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے باوجود موبائل انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں بہتری نہ آنے پر وزیراعظم شہباز شریف نے سخت نوٹس لے لیا ہے۔

وزیراعظم نے انٹرنیٹ اسپیڈ بہتر نہ ہونے پرپی ٹی اے سے موبائل انٹرنیٹ کی موجودہ رفتار سے متعلق فوری اور تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

رپورٹ طلبی کے بعد چیئرمین پی ٹی اے نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور انہیں موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی۔

بریفنگ کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ٹیلی کام آپریٹرز اپنے نیٹ ورک انفرا اسٹرکچر کو جدید بنانے کے لیے فور جی اور فائیو جی کے جدید آلات درآمد کرنے کے مرحلے میں ہیں۔

چیئرمین پی ٹی اے نے بتایاکہ ان آلات کی وصولی کے بعد تنصیب کا عمل شروع کر دیا جائے گا جس میں چند ماہ لگنے کا امکان ہے، تاہم اس عمل کے مکمل ہوتے ہی انٹرنیٹ کی رفتار میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔

چیئرمین پی ٹی اے نے بریفنگ میں مزید انکشاف کیا کہ ٹیلی کام انفرا اسٹرکچر کی اس بہتری سے نہ صرف فائیو جی بلکہ فور جی انٹرنیٹ کی رفتار بھی پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو جائے گی۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں فائیو جی سروس کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت جاری کی کہ عوام کو تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے کیونکہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے وژن کی تکمیل کے لیے تیز ترین انٹرنیٹ کا ہونا ناگزیر ہے۔

وزیراعظم نے پی ٹی اے کو یہ حکم بھی دیا کہ ٹیلی کام آپریٹرز کے لیے مقررہ اہداف پر عملدرآمد کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے۔

چیئرمین پی ٹی اے نے وزیراعظم کو یقین دہانی کرائی کہ ادارہ اپنے ریگولیٹری کردار کو فعال کرتے ہوئے تمام کمپنیز پر موثر چیک اینڈ بیلنس برقرار رکھے گا تاکہ صارفین کو انٹرنیٹ کی بہترین سہولیات میسر آ سکیں۔

Scroll to Top