بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی صحت کے معاملے پر سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے، جس پر معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے پنجاب حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں
شفیع جان نے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کی صحت کے معاملے نے پنجاب حکومت کی مبینہ بدنیتی کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ ان کے مطابق علاج میں مبینہ غفلت اور دانستہ تاخیر بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آپریشن کے بعد بشریٰ بی بی کو ہسپتال میں مناسب طبی سہولیات اور مؤثر نگہداشت فراہم نہیں کی جا رہی، جو کہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیملی کو اعتماد میں لیے بغیر آپریشن کرنا غیر قانونی اور مجرمانہ عمل کے زمرے میں آتا ہے۔
شفیع جان کے مطابق بروقت علاج نہ ملنے کے باعث بشریٰ بی بی کی آنکھ کی بیماری مزید بگڑ گئی ہے، جبکہ جیل میں قید افراد کو طبی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آپریشن کے بعد مریض کو ایسے ماحول میں کیسے منتقل کیا جا سکتا ہے جہاں بنیادی طبی سہولیات ہی موجود نہ ہوں، اور مطالبہ کیا کہ بشریٰ بی بی کو فوری طور پر بہتر علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا جائے۔
شفیع جان نے الزام عائد کیا کہ پنجاب حکومت ایک غیر سیاسی خاتون کو بھی سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے، جبکہ فارم 47 حکومت انسانی صحت جیسے حساس معاملے پر بھی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔
ان کے مطابق پنجاب حکومت آئین، قانون اور جمہوری اقدار کو نظر انداز کر رہی ہے، جبکہ عدالتی احکامات کے باوجود ملاقاتوں پر پابندیاں بھی حکومت کی مبینہ بے حسی کا ثبوت ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام تر دباؤ اور صورتحال کے باوجود عمران خان کا حوصلہ بلند ہے، جبکہ ان کی عوامی مقبولیت ہی حکومتوں کی بوکھلاہٹ کا باعث بن رہی ہے۔





