سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان کے مختلف شہروں اور خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 4758 افراد کو گزشتہ روز افغانستان واپس بھیج دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 18 اپریل کو ان افغان شہریوں کو مختلف ہولڈنگ کیمپس میں منتقل کیا گیا، جن میں لنڈی کوتل کے قریب حمزہ بابا مزار کے ساتھ قائم ہولڈنگ کیمپ، پشاور کا ناصر باغ اور جمعہ خان کیمپ، اضا خیل، صوابی، ہری پور سمیت دیگر مقامات شامل ہیں۔
ان کیمپس میں رجسٹریشن اور ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد ان افراد کو طورخم بارڈر کے راستے افغانستان روانہ کیا گیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق واپس بھیجے جانے والوں میں وہ افغان شہری بھی شامل تھے جو ڈیپورٹ کیے گئے تھے۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف جاری پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک میں غیر قانونی رہائش کے مسائل کو منظم طریقے سے حل کرنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں بھی اسی نوعیت کی کارروائیاں جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ بارڈر انتظامیہ کو اس عمل کو مؤثر اور منظم بنانے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔





