مردان جلسہ شہریوں کیلئے دردسر بن گیا، روزگار چھن گیا، صوبائی حکومت زبردستی پر اتر آئی،شہری کی فریاد

مردان جلسہ شہریوں کیلئے دردسر بن گیا، روزگار چھن گیا، صوبائی حکومت زبردستی پر اتر آئی،شہری کی فریاد

مردان شہر میں منعقد ہونے والے سیاسی جلسے کی تیاریوں نے مقامی شہریوں اور تاجروں کے لیے مشکلات کھڑی کر دیں، جس کے باعث روزگار متاثر ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔

متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ جلسے کے انتظامات کے باعث انہیں اپنی دکانیں اور کاروباری جگہیں خالی کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے، جس سے ان کا قیمتی سامان اور روزگار دونوں خطرے میں پڑ گئے ہیں۔

ایک متاثرہ شہری نے اپنی فریاد بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 8 ، 9 سال سے اسی مقام پر اپنا کاروبار کر رہے ہیں، لیکن اب اچانک انہیں جگہ خالی کرنے کا کہا جا رہا ہے۔

شہری کے مطابق“ہمارا کروڑوں روپے کا سامان ہے، اسے سڑک پر تو نہیں رکھ سکتے۔ پہلے کہا گیا کہ سامان اندر رکھ دیں، ہم نے ایسا ہی کیا، لیکن اب دوبارہ جگہ خالی کرنے کا کہا جا رہا ہے۔ تین دن سے یہی صورتحال چل رہی ہے، جس سے ہمیں شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔”

شہریوں نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ کی جانب سے واضح حکمت عملی نہ ہونے کے باعث انہیں بار بار ہدایات دی جا رہی ہیں، جس سے نہ صرف ذہنی پریشانی میں اضافہ ہوا بلکہ مالی نقصان بھی ہو رہا ہے۔

دوسری جانب بعض شہریوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جلسوں کے انعقاد کے دوران مقامی آبادی اور کاروباری افراد کے حقوق کا خیال رکھا جائے اور انہیں متبادل سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کا روزگار متاثر نہ ہو۔

واضح رہے کہ شہر میں بڑے سیاسی اجتماعات کے دوران ٹریفک کی روانی، کاروباری سرگرمیوں اور معمولاتِ زندگی پر اثرات مرتب ہونا ایک عام مسئلہ بن چکا ہے، جس پر شہریوں کی جانب سے اکثر تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے۔

Scroll to Top