خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے کے انعقاد پر مختلف شہری حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ جلسے کے دوران سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال پر بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے مردان میں جلسے کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ بعض رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پارٹی قیادت کی ہدایات پر کارکنان کو جلسے میں شرکت کے لیے متحرک کیا جا رہا ہے۔
تاہم مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ عوام کو ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت ہے، نہ کہ بار بار جلسوں اور سیاسی اجتماعات کی۔ رستم کے ایک شہری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی رہنما عوامی خدمت کے بجائے جلسوں اور نعرے بازی میں مصروف ہیں، جبکہ عملی طور پر عوام کو کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔
شہری نے مزید کہا کہ جلسوں میں کیے جانے والے اعلانات اکثر عملی شکل اختیار نہیں کرتے، جس سے عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے۔
اسی گفتگو کے دوران شہری نے ایک سوالیہ نکتہ بھی اٹھایا کہ بعض حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ایسے جلسوں سے سیاسی رہنماؤں کی رہائی یا سیاسی صورتحال میں بہتری آسکتی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے اور اس پر عوام میں بحث جاری ہے۔
مقامی شہریوں کے مطابق جلسے کے دوران سرکاری وسائل کے استعمال پر بھی تشویش پائی جا رہی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عوامی وسائل کو سیاسی سرگرمیوں کے بجائے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے۔
سیاسی اور عوامی حلقوں میں اس معاملے پر بحث جاری ہے، جبکہ مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔





