ایران سے نیا معاہدہ اوباما اور بائیڈن دور کے جوہری معاہدے سے بہتر ہوگا، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ نئے معاہدے کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ ہونے والا معاہدہ سابق صدر باراک اوباما اور جو بائیڈن کے دور میں طے پانے والے جوہری معاہدے سے کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر ہوگا۔

صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جلد شروع ہونے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے پیش رفت کے واضح امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اس وقت سنجیدہ اور بامقصد سفارتی عمل میں شریک ہیں اور کسی بھی جانب سے وقت ضائع نہیں کیا جا رہا۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ سابقہ ایران ڈیل نے ایران کو جوہری صلاحیت کی طرف لے جانے کے خطرات پیدا کیے تھے، جبکہ ان کی نگرانی میں تیار ہونے والا نیا معاہدہ اس نوعیت کے خدشات سے مکمل طور پر پاک ہوگا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں ایران کو بڑی رقوم فراہم کی گئیں، جن میں 1.7 ارب ڈالر کی نقد ترسیل بھی شامل ہے، جبکہ ان کے مطابق مزید سیکڑوں ارب ڈالرز بھی ایران کو منتقل کیے گئے، جس پر ان کے بقول شدید سوالات اٹھتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر وہ سابق معاہدہ ختم نہ کرتے تو خطے میں بالخصوص اسرائیل اور امریکی فوجی اڈوں کے لیے سنگین جوہری خطرات پیدا ہو سکتے تھے۔

ان کے مطابق ان کی قیادت میں کسی بھی نئے معاہدے کا مقصد امن، سلامتی اور عالمی استحکام کو یقینی بنانا ہے، جو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ اور پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : ایرانی وفد امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے آج منگل کی شام اسلام آباد پہنچے گا

انہوں نے ڈیموکریٹس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤقف کو کمزور دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کے حوالے سے غلط بیانی پھیلائی جا رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ کسی بھی دباؤ میں نہیں ہیں اور صرف ایسا معاہدہ کریں گے جو امریکا کے مفاد اور خطے کے استحکام کے مطابق ہو۔

اپنے بیان میں انہوں نے تاریخی جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بڑی جنگیں برسوں پر محیط رہی ہیں، اس لیے وہ کسی بھی جلد بازی میں کمزور یا غیر مؤثر معاہدہ قبول نہیں کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگرچہ سفارتی معاہدہ جلد ممکن ہو سکتا ہے، تاہم ان کی ترجیح صرف ایک مضبوط اور دیرپا ڈیل ہے، جس پر امریکا اور اس کے اتحادی فخر کر سکیں۔

Scroll to Top