افغانستان میں لاکھوں افراد بغیر چھت، شدید بحران کا شکار

افغانستان میں رہائشی بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں لاکھوں افراد بنیادی سہولیات سے محروم ہو کر شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ہیبی ٹاٹ کے مطابق 2026 کے دوران ملک بھر میں تقریباً 42 لاکھ افراد کو ہنگامی رہائش اور بنیادی امدادی سامان کی ضرورت ہوگی۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان میں بڑھتی ہوئی نقل مکانی، بار بار آنے والی قدرتی آفات اور بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

ان عوامل کے باعث بڑی تعداد میں شہری محفوظ رہائش سے محروم ہو چکے ہیں اور عارضی یا غیر محفوظ ٹھکانوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

ادارے نے زور دیا ہے کہ تمام متاثرہ افراد کے لیے مناسب اور محفوظ رہائش کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں : امریکا کی پالیسی پر ایران کا سخت ردعمل سامنے آ گیا

انسانی ہمدردی کی تنظیموں نے بھی عالمی برادری سے فوری امداد کی اپیل کی ہے تاکہ متاثرہ افراد کو نہ صرف چھت فراہم کی جا سکے بلکہ انہیں بنیادی ضروریات زندگی بھی مہیا کی جا سکیں۔

ماہرین کے مطابق افغانستان پہلے ہی معاشی دباؤ اور قدرتی آفات کے اثرات سے دوچار ہے، اور اگر رہائشی بحران پر قابو نہ پایا گیا تو یہ ایک بڑے انسانی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف ملک بلکہ خطے پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

Scroll to Top