امریکا کی پالیسی پر ایران کا سخت ردعمل سامنے آ گیا

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی صورت دباؤ یا دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو قبول نہیں کرے گا۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں باقر قالیباف نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کی میز کو “ہتھیار ڈالنے کی میز” میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ایران کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بیانات دراصل خود فریبی پر مبنی ہیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن یہ سمجھنے کی غلطی کر رہا ہے کہ وہ ایران کو دباؤ کے ذریعے کسی کمزور مؤقف پر مجبور کر سکتا ہے یا نئی جنگ کے جواز پیدا کر سکتا ہے۔

باقر قالیباف نے دوٹوک انداز میں کہا کہ مذاکرات کی میز پر دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے، اور ایران کسی بھی ایسی پیشکش کو قبول نہیں کرے گا جو جبر یا دباؤ پر مبنی ہو۔

دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا کو اپنے غیر حقیقی اور حد سے بڑھے ہوئے مطالبات سے پیچھے ہٹنا ہوگا اور ایرانی عوام کے حقوق کا مکمل احترام کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا ماضی میں مختلف آپشنز آزما چکا ہے، تاہم اس بحران کا واحد پائیدار حل سفارت کاری اور بات چیت ہے، نہ کہ طاقت کا استعمال۔

یہ بھی پڑھیں : ایران سے واپسی کا سلسلہ جاری، ہزاروں پاکستانی وطن پہنچ گئے

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکا ایران سے مذاکرات کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ماضی کی غلطیوں کا اعادہ کیا گیا تو ایران فیصلہ کن ردعمل دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ امریکی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز غیر سنجیدہ اور مطالبات غیر حقیقی ہیں، جبکہ ایران کی جوہری مواد کی بیرون ملک منتقلی کبھی بھی مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ نہیں رہی۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکی بحری جہاز پر حملے اور قبضے کے بعد مذاکرات کو بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

Scroll to Top