امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ میں اہم تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں وزیر محنت لوری شاویز نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق لوری شاویز نے ذاتی طور پر عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ جلد نجی شعبے میں نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔ ان کے استعفے کے بعد ان کے نائب کیتھ سونڈرلنگ کو قائم مقام وزیر محنت مقرر کر دیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان اسٹیون چیونگ نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ لوری شاویز نے اپنے دورِ حکومت میں شاندار خدمات انجام دیں۔
ان کے مطابق یہ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت میں کابینہ سے رخصت ہونے والی تیسری خاتون رکن ہیں، اس سے قبل ہوم لینڈ سکیورٹی سیکرٹری کرسٹی نوم اور اٹارنی جنرل پام بونڈی بھی اپنے عہدوں سے الگ ہو چکی ہیں۔
اپنے بیان میں لوری شاویز نے کہا کہ ایک تاریخی انتظامیہ کا حصہ بننا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے اور انہوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کر مزدوروں کی بہتری کے لیے کام کیا۔
یہ بھی پڑھیں : ملک بھر میں نئی یونیورسٹیاں اور سب کیمپسز پر بڑا فیصلہ، پابندی عائد
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان کے استعفے کے پس پردہ بعض تنازعات بھی ہیں، جن میں بدعنوانی اور غیر اخلاقی رویے کے الزامات شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ان پر ماتحت اہلکار کے ساتھ مبینہ تعلق اور دورانِ ڈیوٹی شراب نوشی جیسے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، تاہم ان الزامات کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ استعفیٰ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اور سیاسی و انتظامی چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے کابینہ میں مزید تبدیلیوں کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا رہا۔





