شاہد جان
خیبر پختونخوا اسمبلی کی اپوزیشن جماعتوں نے عمران خان اسٹیڈیم میں ہونے والے خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس کا متفقہ طور پر بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس اہم فیصلے کا اعلان قائد حزب اختلاف ڈاکٹر عباداللہ خان کی صدارت میں ہونے والے اپوزیشن پارلیمانی لیڈرز کے ایک مشاورتی اجلاس میں کیا گیا۔
ڈاکٹر عباداللہ خان کا کہنا تھا کہ اسمبلی بلڈنگ کی موجودگی میں اسٹیڈیم میں اجلاس منعقد کرنا غیر ضروری اخراجات اور عوامی پیسے کا صریح ضیاع ہے۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام محض ایک سیاسی شو ہے جس کا مقصد عوامی وسائل کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرنا ہے۔
قائد حزب اختلاف نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ کی تقریر کے لیے کیے جانے والے غیر معمولی انتظامات بلاجواز ہیں جن سے عوام کو بلاوجہ اذیت دی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران اس قسم کے بڑے اجتماعات حکومتی سنجیدگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر عباداللہ خان نے نشاندہی کی کہ ہزاروں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی سے امن و امان کی صورتحال اور سیکیورٹی اداروں پر اضافی دباؤ پڑے گا۔
انہوں نے صوبے کی معاشی حالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا پہلے ہی 900 ارب روپے کے بھاری قرضے کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔
اپوزیشن لیڈر کے مطابق عوامی مسائل کے حل کے لیے اسمبلی کا فلور موجود ہے مگر پی ٹی آئی صرف نمائشی سیاست میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ “قیدی 804” کی تعریف و توصیف کے لیے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔
ڈاکٹر عباداللہ خان نے اعلان کیا کہ اپوزیشن ان سرکاری وسائل کے غلط استعمال کے خلاف بہت جلد عدالت سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی ٹیکس کے پیسے کو سیاسی تشہیر کے بجائے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرے۔





