خیبر پختونخوا میں صنعتی بحران شدت اختیار کر گیا، 400 سے زائد یونٹس بند یا پنجاب منتقل، بے روزگاری میں اضافہ
خیبر پختونخوا میں بجلی، گیس اور سکیورٹی ٹیکسز میں اضافے کے بعد صنعتی شعبہ شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں صنعتی یونٹس یا تو بند ہو چکے ہیں یا صوبے سے پنجاب منتقل ہو رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق مختلف صنعتی اداروں، فلور ملز اور سی این جی اسٹیشنز کی بندش کے باعث صوبے میں معاشی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور صنعتی بحران مزید سنگین شکل اختیار کر گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اب تک 400 سے زائد صنعتی یونٹس کی بندش یا منتقلی رپورٹ ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر روزگار کے مواقع میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اس صورتحال کے باعث صوبے میں بے روزگاری کی شرح میں تقریباً 10 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جس سے نہ صرف مزدور طبقہ متاثر ہوا ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پشاور، صوابی اور ہری پور سمیت مختلف اضلاع سے صنعتی یونٹس کی منتقلی کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ قبائلی اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن میں پہلے ہی صنعتی سرگرمیاں محدود سطح پر تھیں، جو اب مزید کمزور ہو گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو نہ صرف صنعتی ترقی متاثر ہوگی بلکہ صوبے کی مجموعی معیشت پر بھی طویل المدتی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔





