ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کے واقعے کے بعدکیرولین لیوٹ کا ایک پرانا بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے، جس میں انہوں نے وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر سے قبل مزاحیہ انداز میں کہا تھا کہ ’’آج رات ہال میں کچھ گولیاں چلیں گی‘‘۔
ابتدائی طور پر ان کے اس بیان کو صدر ٹرمپ کی تقریر کے تناظر میں ایک طنزیہ جملہ سمجھا گیا تھا، تاہم تقریب کے دوران پیش آنے والے اصل فائرنگ کے واقعے کے بعد اس بیان نے غیر معمولی توجہ حاصل کر لی ہے۔
کیرولین لیوٹ نے ایک امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کی تقریر روایتی انداز میں مزاح اور سخت لہجے کا امتزاج ہوگی، اور اسی دوران انہوں نے “گولیاں چلنے” کا جملہ استعمال کیا تھا، جسے اس وقت صرف ایک استعارہ سمجھا گیا۔
تاہم تقریب کے دوران اچانک فائرنگ کے واقعات پیش آنے سے ہال میں بھگدڑ اور خوف و ہراس پھیل گیا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔
بعد ازاں صدر ٹرمپ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملہ ممکنہ طور پر انہیں نشانہ بنانے کی کوشش تھا، تاہم خفیہ سکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی سے بڑا سانحہ ٹل گیا۔
صدر کے مطابق ایک اہلکار بھی زخمی ہوا، تاہم بلٹ پروف جیکٹ کے باعث وہ محفوظ رہا۔ انہوں نے عمارت کی سکیورٹی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صورتحال کا مکمل جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ ابتدائی طور پر انہیں گولیوں کی آواز ٹرے گرنے جیسی محسوس ہوئی، تاہم ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے فوراً صورتحال کی سنگینی کو بھانپ لیا۔
واقعے اور پہلے سے دیے گئے بیان کے اتفاق نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں صارفین اسے محض اتفاق قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ اسے حیران کن مماثلت سے تعبیر کر رہے ہیں۔





