پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے گندم کے شعبے میں بڑا پالیسی فیصلہ کرتے ہوئے ہائبرڈ گندم خریداری پالیسی 2026 کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت پہلی بار گندم کی خریداری میں نجی شعبے کو بھی باقاعدہ طور پر شامل کیا گیا ہے۔
سرکاری دستاویز کے مطابق حکومت مجموعی طور پر 5 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن اسٹریٹجک گندم ذخیرہ برقرار رکھے گی تاکہ غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے، جبکہ گندم کی خریداری کا ایک حصہ نجی ایگریگیٹرز کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔
پالیسی کے تحت خریداری کے نظام میں توازن برقرار رکھنے کے لیے دو تہائی گندم سرکاری سطح پر جبکہ ایک تہائی نجی ایگریگیٹرز کے ذریعے خریدی جائے گی۔ اس کے ساتھ گندم کی عارضی امدادی قیمت 3500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کی گئی ہے۔
دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ سرکاری خریداری کے لیے 32 ارب روپے جبکہ نجی شعبے کی شمولیت کے لیے 16 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما کا بیٹا انتقال کرگیا
نجی ایگریگیٹرز کو 70 فیصد تک مارک اپ سپورٹ فراہم کی جائے گی اور ان کے انتخاب کے لیے شفاف ٹینڈر کا طریقہ کار اپنایا جائے گا۔
حکومتی پالیسی کے مطابق تمام مالی ادائیگیاں مکمل طور پر بینکنگ چینلز کے ذریعے کی جائیں گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے، جبکہ گندم کے ذخائر کی مؤثر نگرانی کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس نئی پالیسی کا مقصد گندم کی خریداری کے نظام کو زیادہ مؤثر، شفاف اور مارکیٹ بیسڈ بنانا ہے تاکہ کسانوں کو بہتر ریٹ اور مارکیٹ کو مستحکم سپلائی فراہم کی جا سکے۔





