چمن سیکٹر میں سرحدی صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب ٹی ٹی اے اور ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد عناصر نے دراندازی کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران 7 سے 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے، جبکہ باقی دہشت گرد اپنے ساتھیوں کی لاشیں اور اسلحہ چھوڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو فوری طور پر کلیئر کرتے ہوئے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز نے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق دراندازی کی کوشش کے بعد سرحد پار سے الزام تراشی کی گئی، جسے پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر ضروری اقدام کرنا ان کا حق ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ جب بھی سرحدی حدود کی خلاف ورزی یا دراندازی کی کوشش کی جائے گی تو اس کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔
سیکیورٹی فورسز نے مزید کہا ہے کہ ملک کی سرحدوں کے تحفظ کے لیے آپریشنز جاری رہیں گے اور کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔





