موٹاپے کی وبا پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ سامنے آگئی

اگر آپ بڑھتے ہوئے وزن اور پیٹ کی چربی سے پریشان ہیں تو فوری طور پر الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال ترک کر دیں۔

طبی ماہرین کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ الٹرا پراسیس غذائیں نہ صرف جسمانی وزن میں تیزی سے اضافہ کرتی ہیں بلکہ توند نکلنے اور جسم میں خطرناک چربی بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ بھی ہیں۔

جرنل نیچر میٹابولزم میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق ان غذاؤں میں موجود فرکٹوز نامی مٹھاس میٹابولزم کے نظام کو درہم برہم کر دیتی ہے جس سے موٹاپے اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

الٹرا پراسیس غذاؤں میں عام طور پر ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈ، مٹھائیاں، کیک، انسٹنٹ نوڈلز، چکن نگٹس اور میٹھے مشروبات شامل ہوتے ہیں۔ یہ اشیا تیاری کے دوران کئی مراحل سے گزرتی ہیں جس کی وجہ سے ان میں نمک، چینی اور مصنوعی اجزا کی مقدار بہت زیادہ ہو جاتی ہے جبکہ فائبر جیسے مفید اجزا ختم ہو جاتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ان غذاؤں میں استعمال ہونے والی مٹھاس گلوکوز کے مقابلے میں دوگنا زیادہ میٹھی ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسان کو بار بار بھوک لگتی ہے اور وہ ضرورت سے زیادہ کیلوریز استعمال کر لیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فرکٹوز مٹھاس خاص طور پر جگر پر اثر انداز ہوتی ہے جس سے جسم میں چربی کا ذخیرہ بڑھ جاتا ہے اور خلیاتی توانائی گھٹ جاتی ہے۔ اس عمل سے انسان میٹابولک سینڈروم کا شکار ہو سکتا ہے جو ہائی بلڈ پریشر، ہائی بلڈ شوگر، کولیسٹرول اور خون میں چکنائی بڑھنے جیسے امراض کا مجموعہ ہے۔

یہ علامات آگے چل کر امراضِ قلب، ذیابیطس ٹائپ ٹو اور فالج جیسی جان لیوا بیماریوں کا سبب بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ فرکٹوز سے گردوں کے امراض اور جوڑوں کی تکلیف کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

محققین کے مطابق جو غذا جتنی زیادہ پراسیس کی جاتی ہے، وہ اتنی ہی جلد ہضم ہو کر خون میں انسولین کی مقدار بڑھا دیتی ہے جس سے چربی بننے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔

ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ وزن کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے سب سے پہلے سوڈا اور کیک جیسی اشیا کا استعمال ترک کرنا چاہیے اور ان کی جگہ پھلوں، سبزیوں اور متوازن غذا کو ترجیح دینی چاہیے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ جتنا ممکن ہو سکے قدرتی غذاؤں کا انتخاب کریں تاکہ طویل العمر اور صحت مند زندگی گزار سکیں۔

Scroll to Top