روس کا نیا ویزا پروگرام،پاکستانیوں کےلئے سنہری موقع

روس نے ملک کی ترقی کے لیے اہمیت رکھنے والے غیر ملکی شہریوں کے لیے 15 اپریل سے ایک نئی قانونی حیثیت ‘امپیٹرینٹس(Impatriants) متعارف کروا دی ہے۔

یہ پروگرام خاص طور پر اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہرین، محققین، کاروباری افراد اور ثقافتی شخصیات کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ وہ بغیر کسی پیچیدہ طریقہ کار کے روس میں مستقل سکونت اختیار کر سکیں۔

روسی وزارت داخلہ اور ایجنسی فار اسٹریٹجک انیشی ایٹوز کے زیرِ نگرانی شروع کیے گئے اس پروگرام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شامل ہونے والے افراد کو روسی زبان سیکھنے یا تاریخ کے امتحانات دینے کی شرط سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا۔

اس کے علاوہ، رہائشی اجازت نامے کا عمل محض 30 دنوں کے اندر مکمل کر لیا جائے گا اور درخواست گزار کے ساتھ ساتھ اس کے شریکِ حیات، بچوں اور والدین کو بھی یہی سہولیات میسر ہوں گی۔

اس پروگرام کے تحت 8 مخصوص گروہوں کو ترجیح دی گئی ہے، جن میں سائنسدان، آئی ٹی اور مائیکرو الیکٹرانکس کے ماہرین، کامیاب سرمایہ کار، دنیا کی ٹاپ 100 یونیورسٹیوں کے گریجویٹس، نامور کھلاڑی اور ثقافت سے وابستہ افراد شامل ہیں۔

پروگرام کی ایک اور بڑی سہولت یہ ہے کہ امپیٹرینٹ اسٹیٹس حاصل کرنے والے افراد کو روس میں کام کرنے کے لیے کسی علیحدہ ورک پرمٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔

درخواست دینے کا طریقہ کار انتہائی منظم ہے جو تین مراحل پر مشتمل ہے۔ سب سے پہلے وزارتِ داخلہ کی نامزد کردہ تنظیم کو درخواست جمع کروانی ہوگی، جس کے بعد وزارتِ داخلہ اور صدارتی شہریت کمیشن کے تحت قائم خصوصی ورکنگ گروپ اس کا جائزہ لیں گے۔

شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے جانچ پڑتال کے اس پورے عمل میں 95 سے 125 دن لگ سکتے ہیں۔ یہ اقدام روس کی جانب سے دنیا بھر سے بہترین ٹیلنٹ کو اپنے ملک کی طرف راغب کرنے کی ایک بڑی کوشش قرار دی جا رہی ہے۔

Scroll to Top