ضلع خیبر: خیبر پختونخوا کے علاقے لنڈی کوتل میں واقع ایک منفرد درخت اپنی عجیب و دلچسپ داستان کے باعث آج بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
تاریخی چھاؤنی کے اندر موجود یہ اخروٹ کا درخت بظاہر عام دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے ساتھ جڑی کہانی اسے غیرمعمولی بنا دیتی ہے۔
درخت کے قریب نصب ایک بورڈ پر درج تحریر “مجھے گرفتار کر لیا گیا ہے” دیکھنے والوں کو چونکا دیتی ہے۔ روایت کے مطابق برطانوی دورِ حکومت میں ایک فوجی افسر نشے کی حالت میں یہاں سے گزرا۔
اسے یوں محسوس ہوا جیسے درخت اپنی جگہ سے حرکت کر رہا ہو۔ اس غلط فہمی کے باعث اس نے درخت کو “گرفتار” کرنے کا حکم دے دیا، اور یوں یہ درخت اس عجیب فیصلے کی علامت بن کر رہ گیا۔
مقامی افراد کے مطابق یہ واقعہ انگریز دور کی اُن نایاب کہانیوں میں شامل ہے جو وقت گزرنے کے باوجود زندہ ہیں۔
سیاح ابوذر آفریدی کا کہنا ہے کہ درخت آج بھی اسی مقام پر موجود ہے اور اسے دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ماضی کی ایک جھلک اب بھی قائم ہو۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا سمیت ملک کے مختلف شہروں میں بارش کی پیشگوئی
اگرچہ اب یہ اخروٹ کا درخت پھل نہیں دیتا، مگر اس کی تاریخی حیثیت اور منفرد پس منظر نے اسے سیاحوں کے لیے ایک دلچسپ مقام بنا دیا ہے۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد اس درخت کو دیکھنے اور اس کی کہانی سننے میں خاص دلچسپی لیتے ہیں۔
ایک مقامی شہری ثناء اللہ نے دلچسپ انداز میں کہا کہ اگر اس درخت کی “سزا” مکمل ہو چکی ہے تو اسے اب آزاد کر دینا چاہیے۔ ان کا یہ جملہ اس واقعے کے طنزیہ پہلو کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
یہ درخت محض ایک پودا نہیں بلکہ تاریخ کا ایک ایسا خاموش گواہ ہے جو انسان کے اختیار، طاقت کے استعمال اور بعض اوقات اس کے غیرمعقول فیصلوں کی یاد دلاتا ہے۔
ساتھ ہی یہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ ماضی کی کہانیاں کس طرح وقت کے ساتھ روایت بن کر آنے والی نسلوں کو حیران کرتی رہتی ہیں۔





