واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اب ہر بار کسی دستاویز پر بات کرنے کے لیے 18 گھنٹے کی طویل پروازیں کرنا ممکن نہیں، اس لیے ایران سے مذاکرات ٹیلی فون کے ذریعے کررہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں ناسا کے ’آرٹیمس دوم‘ مشن پر جانے والے چار خلابازوں سے ملاقات کے دوران امریکی صدر نے وہاں موجود صحافیوں کے سوالات کے جواب بھی دیئے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’میں آمنے سامنے ملاقات کو پسند کرتا ہوںمگر جب ہر ملاقات کے لیے 18 گھنٹے سفر کرنا پڑے اور روانہ ہونے سے پہلے ہی معلوم ہو کہ وہ ایک ایسی دستاویز دیں گے جو آپ کو پسند نہیں آئے گی تو یہ عملی نہیں رہتا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے کافی پیشرفت کی ہے تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا ایران اتنا آگے جائے گا بھی یا نہیں جتنا امریکہ چاہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کسی بھی صورت میں کوئی معاہدہ نہیں ہو سکتا جب تک وہ اس بات پر متفق نہ ہوں کہ ایران کے پاس کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں : فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے بھارت کو تاریخ ساز شکست دے دی، گرپتونت سنگھ پنوں
ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر کہ آیا یہ کارروائی کئی ماہ تک جاری رہے گی صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ تہران کو ’فوجی لحاظ سے شکست‘ دی جا چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب انھیں ہتھیار ڈالنے ہوں گے، بس اتنا ہی کرنا ہے کیونکہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ اب اُن کے پاس بس اتنا ہی کہنا رہ گیا ہے کہ ہم ہار مانتے ہیں اور دستبردار ہوتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے 82 فیصد میزائل تباہ اور 159 بحری جہاز ڈبو دیئے ہیں، ایرانی کرنسی کی کوئی قدروقیمت نہیں رہی۔
امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ روسی صدر پیوٹن کے ساتھ ایران اور یوکرین کے معاملے پر ان کی فون پر بات چیت ہوئی ہے۔انہوں نے پیوٹن سےکہا ہےکہ امریکا جنگ بند کرنے میں مدد دینے سے پہلے روس کو اپنی جنگ بند کرنی ہوگی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ پیوٹن نے ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی کے معاملے پر فکرمندی کا اظہار کیا ہے۔





