پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کر دی گئی ہے جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فوری طور پر کم کر کے 200 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار نے حالیہ اضافے کو غریب دشمن اور آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے چار سو روپے فی لیٹر تک ایندھن خریدنا سراسر ظلم اور ناانصافی ہے۔
درخواست میں حکومت کی جانب سے عالمی حالات، جنگ، آبنائے ہرمز کی کشیدگی اور آئی ایم ایف کے مطالبات کو بطور جواز پیش کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
درخواست گزار کے مطابق یہ محض بہانے ہیں جن کا براہِ راست بوجھ عام آدمی کی زندگی پر پڑ رہا ہے۔
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ حکومت کو ایران جیسے پڑوسی ملک سے تیل کی خریداری اور خلیجی ممالک سے رعایتی نرخوں پر ایندھن حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ سفارتی کوششیں کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ قیمتوں میں یہ اضافہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 3، 9 اور 14 کی صریح خلاف ورزی ہے جو شہریوں کے حقوق، وقار اور معاشی تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔





