کامران علی شاہ
جے یو آئی (ف) کے سینئر رہنما مولانا شیخ محمد ادریس کی شہادت کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی مردان میں درج کر لیا گیا ہے۔
یہ ایف آئی آر فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے پولیس کانسٹیبل شیر عالم کی مدعیت میں درج کی گئی ہےجس میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق حملہ اس وقت کیا گیا جب مولانا شیخ محمد ادریس اپنی گاڑی میں سوار ہو کر جا رہے تھے۔ گاڑی میں مولانا کے ہمراہ ان کی سیکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکار اور ڈرائیور بھی موجود تھے۔
متن کے مطابق ملزمان نے مولانا کی گاڑی پر پیچھے سے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں مولانا ادریس شہید جبکہ ان کی سیکیورٹی پر تعینات دونوں پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے میں قتل کی دفعات کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق حملہ آوروں نے سوچی سمجھی سازش کے تحت معروف عالم دین کو نشانہ بنایا اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔
سی ٹی ڈی اور پولیس کی خصوصی ٹیموں نے ایف آئی آر کے اندراج کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد اور زخمی پولیس اہلکار کے بیان کی روشنی میں ملزمان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ اس دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث عناصر کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔





