فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ اور ایران کے درمیان پیس میکربن گئے،ہسپانوی اخبارکی رپورٹ

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ اور ایران کے درمیان پیس میکربن گئے،ہسپانوی اخبارکی رپورٹ

ہسپانوی اخبارنے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ کو روکنے اور امن مذاکرات کی بحالی کے لیے کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایل پاس کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر ایران پر حملہ معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عاصم منیر کو اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل اور ایک عظیم جنگجو قرار دیا ہے۔

عاصم منیر کو مئی 2025 میں بھارت کے خلاف ایک اہم فوجی کامیابی کے بعد فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی جس کے بعد سے وہ عالمی سطح پر ایک طاقتور شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ قربت غیر معمولی ہے اور وہ تاریخ کے پہلے پاکستانی فوجی کمانڈر ہیں جنہیں سربراہِ مملکت نہ ہونے کے باوجود وائٹ ہاؤس میں ظہرانے کی دعوت دی گئی۔

اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے نہ صرف خطے کی سیکیورٹی بلکہ تجارت اور کرپٹو کرنسی جیسے جدید معاشی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

اسی سلسلے میں ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے بیٹے زیکری وٹکوف نے اسلام آباد کے دورے کیے جہاں پاکستان کے روزویلٹ ہوٹل کی مشترکہ تعمیر اور ڈیجیٹل فنانس کے حوالے سے اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

دوسری جانب فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حال ہی میں تہران کا تین روزہ دورہ کیا جہاں انہوں نے ایرانی صدر اور عسکری حکام سے ملاقاتیں کیں تاکہ انہیں واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کی میز پر واپس لایا جا سکے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ عاصم منیر کا انٹیلی جنس پس منظر اور تہران و واشنگٹن دونوں جگہوں پر ان کی رسائی انہیں ایک منفرد ثالث بناتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نومبر 2025 کی آئینی ترمیم کے بعد چیف آف ڈیفنس فورسز کے نئے عہدے پر فائز ہونے والے عاصم منیر اب پاکستان کے خارجہ اور معاشی امور کے اصل فیصلے کر رہے ہیں اور دنیا انہیں ایک ایسے بااثر سفارت کار کے طور پر دیکھ رہی ہے جو عالمی امن کے لیے ایک آخری امید ثابت ہو سکتے ہیں۔

Scroll to Top