کابل سے بلوچستان تک خفیہ کھیل :لیفٹیننٹ جنرل (ر)عامر ریاض نےکئی حقائق سے پردہ اٹھا دیا

سابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے کابل سے بلوچستان تک پھیلے خفیہ کھیل کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے کئی حقائق سے پردہ اٹھا دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ میر ہزار خان بجرانی، جو اس تحریک کے ایک عسکری کمانڈر رہے تھے اور بعد میں پاکستان کے دوست بن گئے تھے، انہوں نے ایک ایسی تصویر دکھائی جو لاکھوں لفظوں کے برابر تھی۔

اس تصویر میں کابل کا منظر تھا جہاں افغانستان کی انٹیلیجنس ایجنسی (KHAD) کا سربراہ، بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی (RAW) کا اسٹیشن چیف اور سوویت یونین کی ایجنسی (KGB) کے اہلکار ایک ساتھ موجود تھے۔ میر ہزار خان بجرانی کی سنائی گئی اس تصویر کی کہانی سے بہت سی باتیں واضح ہو جاتی ہیں کہ یہ مداخلت کتنی پرانی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے مزید انکشاف کیا کہ 2006-07 میں پاکستان میں تعینات بھارتی سفارت خانے کا ایک افسر دیپک کول، جو غالباً کمرشل اتاشی تھا، اس وقت رنگے ہاتھوں پکڑا گیا جب وہ حکومتِ پاکستان کی اجازت سے بذریعہ سڑک دہلی واپس جا رہا تھا۔

راستے میں وہ بلوچ عسکریت پسندوں کے نمائندوں سے ملاقات کر رہا تھا اور انہیں 4 لاکھ ڈالر دیتے ہوئے پکڑا گیا۔ چونکہ وہ ایک سفارت کار تھا، اس لیے اسے واپس بھیج دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ کوئی نئی کہانی نہیں بلکہ پرانے سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے جو دہائیوں سے جاری ہے۔

Scroll to Top