ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد میں کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کا انکشاف

ایبٹ آباد میں واقع ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد میں کروڑوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں اور غیر ضروری مہنگی ادویات کی خریداری سے متعلق بڑا انکشاف سامنے آیا ہے، جس میں اہم عہدوں پر ناتجربہ کار عملے کی تعیناتی اور مبینہ کرپشن کے لیے منظم طریقہ کار اختیار کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایک فارمل انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہسپتال میں ادویات اور دیگر خریداریوں کے لیے ایسے افراد کو اہم ذمہ داریاں دی گئیں جو تجربہ کار نہیں تھے، حتیٰ کہ میٹرک پاس ملازم کو بھی سینئر آڈیٹر جیسے اہم عہدے پر تعینات کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 16 اہلکاروں کی نشاندہی کی گئی ہے جو مبینہ کرپشن یا اس میں معاونت میں ملوث پائے گئے۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور: اینٹی کرپشن کورٹ خیبرپختونخوا کا گندم اسکینڈل کیس میں بڑا فیصلہ

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2023 اور 2024 کے دوران 1 ارب 28 کروڑ 50 لاکھ روپے کی خریداری کی گئی، جس میں سے 93 کروڑ روپے کی ادویات اس وقت خریدی گئیں جب حکومتی سطح پر پروکیورمنٹ پر پابندی عائد تھی۔ مزید کہا گیا ہے کہ منیجمنٹ کونسل نے 47 کروڑ 95 لاکھ روپے کا ترقیاتی بجٹ غیر قانونی طور پر ریگولر بجٹ میں تبدیل کیا، جس کے ذریعے ادویات کی خریداری کی راہ ہموار کی گئی۔

انکوائری میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ جعلی اور نامکمل دستاویزات پر متعدد کمپنیوں کو ٹھیکے دیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق بعض فرمز سے جعلی این ٹی این اور دیگر مشکوک دستاویزات کے باوجود کروڑوں روپے کی ادویات خریدی گئیں، جبکہ کئی معاملات میں مارکیٹ ریٹ سے بہت زیادہ قیمتوں پر خریداری کی گئی جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔

ادویات اور آلات کی خریداری میں بھی واضح فرق سامنے آیا، جس میں بعض انجکشنز اور سرجیکل آئٹمز مارکیٹ قیمت سے کئی گنا مہنگے داموں خریدے گئے۔ رپورٹ میں کمپیوٹرز اور دیگر آلات کی خریداری میں بھی زائد ادائیگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق ہسپتال میں مجموعی طور پر 29 ملازمین کو طلب کیا گیا، جن میں سے متعدد کے خلاف سخت کارروائی اور سزاؤں کی سفارش کی گئی ہے۔ سابق ڈائریکٹر پر غیر قانونی الاونس لینے اور مالی بے ضابطگیوں میں معاونت کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : بھارت آبی جارحیت سے باز نہ آیا تو بگلیہار ڈیم کو نشانہ بنا سکتے ہیں: رانا ثناء

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض افسران نے ٹینڈرز اور دستاویزات میں ردوبدل کر کے مخصوص کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا۔ انکوائری کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ملوث افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی، ریکوری اور بعض صورتوں میں کیسز کو احتسابی اداروں کے حوالے کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق ہسپتال کی بورڈ آف گورنرز کی جانب سے متعدد اہلکاروں کو شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے ہیں اور انہیں ذاتی طور پر سنے جانے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ بورڈ نے بعض معاملات میں مزید تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کے لیے جامع انکوائری کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

ہسپتال انتظامیہ کے مطابق عدالتی حکم امتناع ختم ہونے کے بعد کارروائی کو دوبارہ آگے بڑھایا جائے گا جبکہ مبینہ بے ضابطگیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اقدامات کا امکان ہے۔

Scroll to Top