پاکستان سمیت دنیا بھر میں تھیلیسیمیا سے آگاہی کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج تھیلیسیمیا سے آگاہی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد اس موروثی بیماری کے بارے میں شعور بیدار کرنا اور اس کی روک تھام کے حوالے سے عوام کو آگاہی فراہم کرنا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق تھیلیسیمیا ایک جینیاتی مرض ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس بیماری میں مبتلا بچوں کے جسم میں پیدائشی طور پر خون مناسب مقدار میں نہیں بنتا، جس کے باعث انہیں زندہ رہنے کے لیے بار بار خون کی منتقلی کی ضرورت پیش آتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تھیلیسیمیا کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ قریبی رشتہ داروں میں شادیاں ہیں۔ اس مرض میں مبتلا بچے معمول کی زندگی گزارنے کی خواہش رکھتے ہیں، تاہم ان کی زندگی کا انحصار مستقل خون کی فراہمی پر ہوتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر 100 میں سے تقریباً 5 بچے اس مرض سے متاثر ہوتے ہیں، جبکہ ملک بھر میں ایک لاکھ سے زائد بچے تھیلیسیمیا سے جنگ لڑ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی جنگی جہاز محفوظ رہے، آبنائے ہرمز میں ایرانی ڈرونز تباہ کر دیے: ٹرمپ کا دعویٰ

ڈاکٹروں کے مطابق تھیلیسیمیا سے بچاؤ ممکن ہے، بشرطیکہ شادی سے قبل تھیلیسیمیا اسکریننگ اور ٹیسٹ کو لازمی بنایا جائے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت ٹیسٹ اور آگاہی کے ذریعے آنے والی نسلوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جینیاتی اعتبار سے تھیلیسیمیا کی دو بڑی اقسام الفا تھیلیسیمیا اور بیٹا تھیلیسیمیا ہیں، جبکہ شدت کے لحاظ سے اس بیماری کو تھیلیسیمیا میجر، تھیلیسیمیا مائنر اور تھیلیسیمیا انٹرمیڈیا میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے زیر اہتمام ہر سال مئی کے آغاز میں یہ دن منایا جاتا ہے تاکہ عوام میں شعور اجاگر کیا جا سکے اور تھیلیسیمیا کے شکار بچوں کی مشکلات اور ضروریات کو دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔

Scroll to Top