کاشف الدین سید
محکمہ صحت میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کا ایک بڑا معاملہ منظر عام پر آگیا ہے جہاں ضلع کوہستان لوئر میں سال 2022 کے دوران کی جانے والی تقرریوں کے خلاف ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز کی جانب سے حقائق جاننے کی انکوائری رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔
ڈی جی ہیلتھ سروسز کے دفتر سے جاری مراسلہ کے ذریعے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو ہستان لوئر کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ انکوائری رپورٹ پرمن و عن فوری عملدرآمد کیا جائے۔
مراسلے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ سال 2022 میں ہونے والی تمام غیر قانونی تقرریوں میں ملوث افراد کو قانونی طریقہ کار کے مطابق ملازمت سے فارغ کیا جائے ساتھ ہی ان ملازمین کو دی جانے والی سرکاری تنخواہوں کی مکمل واپسی بھی یقینی بنائی جائے تا کہ قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔
محکمہ صحت نے اس مقصد کے لیے ڈسٹرکٹ اکانٹس آفیسر کوہستان لوئر کی معاونت حاصل کرنے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ تنخواہوں اور مالی فوائد کی مکمل تفصیلات حاصل کر کے ریکوری کا عمل یقینی بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق ان بھرتیوں میں قواعد وضوابط کو نظر انداز کرنے ، میرٹ کی خلاف ورزی اور مبینہ طور پر سیاسی و با اثر سفارشات کے استعمال کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں ۔خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انکوائری کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے اور ذمہ دار افسران کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب بعض ملازمین اور مقامی حلقوں میں تشویش پائی جارہی ہے کہ اگر مکمل شفاف تحقیقات نہ ہوئیں تو بے گناہ افراد بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر ان بھرتیوں میں واقعی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ثابت ہو جاتی ہے تو نہ صرف ملازمین کی برطرفی بلکہ متعلقہ افسران کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔





