معروف افغان نژاد آسٹریلوی صحافی اور سکائی نیوز کی سینئر اینکر پرسن یلدا حکیم نے اپنی ایک خصوصی اور مفصل دستاویزی رپورٹ میں مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال، ایران امریکہ کشیدگی اور اس پورے منظرنامے میں پاکستان کے ابھرتے ہوئے اسٹریٹجک کردار کا احاطہ کیا ہے۔
یلدا حکیم نے اپنی رپورٹ میں یہ بنیادی سوال اٹھایا ہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان برسوں سے جاری تناؤ کو ختم کرنے کے لیے پسِ پردہ ہونے والے مذاکرات کی اصل سمت کون طے کر رہا ہے اور ان پیچیدہ سفارتی کوششوں کے پیچھے کون سے محرکات کارفرما ہیں۔
اس سلسلے میں رپورٹ میں پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی حالیہ سفارتی مصروفیات اور اہم عالمی دوروں کو خصوصی اہمیت کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ خطے میں امن اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کا فوجی اور سیاسی اثر و رسوخ اب عالمی سطح پر ایک کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
رپورٹ میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک اہم بیان کا حوالہ بھی شامل کیا گیا ہے جس میں انہوں نے پاکستان اور افغانستان کو دو برادر ممالک قرار دیتے ہوئے باہمی تعلقات کی پائیداری اور مضبوطی پر زور دیا ہے۔
اس سفارتی پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی اور بین الاقوامی کرائسز گروپ کے ایران پراجیکٹ کے ڈائریکٹر علی واعظ نے اپنے تجزیوں میں واضح کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی بھی ممکنہ سمجھوتے یا خطے میں دیرپا استحکام کے لیے علاقائی طاقتوں بالخصوص پاکستان کا تعاون ناگزیر ہے۔
یلدا حکیم نے اپنی رپورٹ میں تہران کی سڑکوں پر ہونے والے عوامی اجتماعات اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میکسمم پریشر پالیسی کے اثرات کا موجودہ حالات سے موازنہ کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایران اب اپنی خارجہ پالیسی میں مغربی دنیا کے ساتھ ساتھ اپنے پڑوسی ممالک اور خاص طور پر پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ایک نئی اسٹریٹجک ترجیح دے رہا ہے۔
یہ تفصیلی رپورٹ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والے نئے بحرانوں اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کے حل کے لیے عالمی طاقتیں اب پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور اس کے سفارتی اثر و رسوخ کو نظر انداز نہیں کر سکتیں۔
یلدا حکیم کے مطابق پاکستان اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو نہ صرف دو طرفہ کشیدگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے بلکہ خطے میں ایک نئے معاشی اور دفاعی بلاک کی تشکیل میں بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
یلدا حکیم کی یہ رپورٹ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری اس سفارتی شطرنج میں پاکستان کو ایک فیصلہ کن کھلاڑی کے طور پر پیش کرتی ہے۔





