پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے بنوں میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جانب ملک بھر میں جشن منایا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب بنوں سے آنے والی خبریں اور ویڈیوز ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کر رہی ہیں کہ ریاستِ پاکستان میں پشتونوں کی جانوں کی قدر و قیمت کیا رہ گئی ہے۔
اپنے بیان میں سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ، مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بھی وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سیاسی بے حسی، غیر سنجیدگی اور ناکام پالیسیوں کا خمیازہ پشتون عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے، جو آئے روز اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھانے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پشتون قوم بھی ملک میں امن، استحکام اور خوشیوں کے لمحات دیکھنا چاہتی ہے، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ سچ کا سامنا کیا جائے اور ماضی کا احتساب کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : بنوں، چوکی فتح خیل حملے کے شہداء کی نمازِ جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا
سینیٹر ایمل ولی خان نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ٹرتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن قائم کیا جائے تاکہ گزشتہ پچاس برسوں کے دوران پشتونوں کے خون سے جڑے حقائق قوم کے سامنے لائے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ پشتونوں کا خون کس نے بہایا، کن پالیسیوں کے تحت یہ قتل و غارت گری جاری رہی اور کن ایجنڈوں کے باعث خطے میں بدامنی کو فروغ ملا۔
اے این پی رہنما نے بنوں واقعے کے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل دے اور زخمیوں کو جلد صحتِ کاملہ نصیب فرمائے۔





