ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل اور عالمی معاشی خدشات کے باعث عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے سرمایہ کاروں کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ تقریباً ایک فیصد کمی کے بعد 4,667.99 ڈالر فی اونس تک گر گیا، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 1.1 فیصد نیچے آ گئے۔ ماہرین کے مطابق امریکی ڈالر کی مضبوطی نے بھی سونے کو دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے مہنگا بنا دیا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امن مذاکرات کی تجویز مسترد کرتے ہوئے تہران کے مطالبات کو ناقابل قبول قرار دیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب برینٹ خام تیل کی قیمت 103 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی سپلائی چین پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی بڑھتی قیمتیں افراطِ زر میں اضافے کا باعث بنتی ہیں، جس کے نتیجے میں شرح سود بلند رہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اگرچہ سونا روایتی طور پر مہنگائی کے خلاف ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود اس غیر منافع بخش دھات پر دباؤ بڑھا دیتی ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں فوری کمی کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ آئندہ برسوں میں مزید اضافے کے خدشات بھی موجود ہیں، جس سے عالمی سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔





