وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا اڈیالہ جیل سے اگلے لائحہ عمل کا اعلان

راولپنڈی: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آئندہ منگل سے قبل ہسپتال منتقل کیا جائے، بصورت دیگر سخت رویے کے ساتھ اڈیالہ جیل کا رخ کیا جائے گا۔

اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ان کے اہل خانہ اور ذاتی ڈاکٹر کی ملاقات نہیں کروائی جا رہی، جبکہ آج بھی آنے والے پارلیمنٹیرینز کو روکا گیا اور ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا۔

سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ حکام کو معلوم تھا کہ صوبے کا چیف ایگزیکٹو جیل آرہا ہے، اس کے باوجود رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال بار بار پیش آ رہی ہے، اور اب ان کا رویہ پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوام بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں، اور ان کی صحت کے معاملے کو معمول کا مسئلہ نہیں بننے دیا جائے گا۔

ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو نہ تو ان کے اہل خانہ اور نہ ہی ذاتی معالجین کی موجودگی میں علاج کی سہولت دی جا رہی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ وہ اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ہر حد تک ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : آسٹریلیا میں روزگار اور مستقل رہائش کا موقع، پاکستانی ہنرمندوں کیلئے اہم اعلان

ان کا کہنا تھا کہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر منگل سے قبل ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کا علاج اہل خانہ اور ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں شروع کیا جا سکے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض عناصر کے ارادے مشکوک ہیں اور صورتحال کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو آئندہ سخت ردعمل دیا جائے گا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ مطالبہ کسی غیر آئینی اقدام کے لیے نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے تحت کیا جا رہا ہے، اور جیل مینوئل کے مطابق قیدی کو اپنے ذاتی معالج سے علاج کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی گزشتہ تین سال سے قید میں ہیں اور ان کی صحت کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے، خاص طور پر آنکھ کے مسئلے کے حوالے سے فوری توجہ ضروری ہے۔

Scroll to Top