بین الصوبائی منشیات فروش کے مقدمے میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جہاں ملزمہ نے پولیس پر تشدد اور زیادتی کے سنگین الزامات عائد کیے۔
تفصیلات کے مطابق ملزمہ کو سخت سیکیورٹی میں کمرہ عدالت پہنچایا گیا، جہاں سماعت کے دوران اچانک صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ ملزمہ نے چیخ و پکار شروع کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کی اور خود کو بے گناہ قرار دیا۔
عدالت اور میڈیا کے سامنے روتے ہوئے ملزمہ کا کہنا تھا کہ “میرا کوئی قصور نہیں، مجھے بے گناہ پھنسایا گیا ہے، پولیس مجھے مارتی ہے اور مجھ پر تشدد کرتی ہے۔” ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی جا رہی ہے اور پورے خاندان کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پولیس کے مطابق منشیات فروشی کے کیس میں ملزمہ کی نشاندہی پر ابوالحسن اصفہانی روڈ کے اے ون کمپلیکس میں واقع ایک فلیٹ پر چھاپہ مارا گیا، جہاں سے بھاری مقدار میں کوکین برآمد کی گئی۔ برآمد شدہ منشیات کی مالیت 45 لاکھ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ملزمہ کے خلاف سچل تھانے میں بھی ایک اور مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔ اس سے قبل بھی کراچی میں گارڈن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ کو گرفتار کیا تھا، جہاں سے کروڑوں روپے مالیت کی منشیات برآمد ہوئی تھیں۔
تحقیقات کے دوران ملزمہ نے مبینہ طور پر ماہانہ کروڑوں روپے کی منشیات فروخت اور پولیس کو بھاری رقوم دینے سے متعلق بھی انکشافات کیے تھے، تاہم ان الزامات کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
انمول عرف پنکی نے عدالت میں شکایت کی کہ اسے جوتے تو دیے جائیں، اسے ایسے ہی بھگایا جا رہا ہے،عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزمہ کو میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔





