عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد توانائی کی عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق پیر کے روز ابتدائی ایشیائی ٹریڈنگ میں خام تیل کی قیمتیں 2 فیصد سے زائد کم ہو گئیں۔ برینٹ کروڈ فیوچرز تقریباً 3 ڈالر کمی کے بعد 109.09 ڈالر فی بیرل تک آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی 107.28 ڈالر فی بیرل تک گر گیا۔
رپورٹ کے مطابق قیمتوں میں کمی اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر نے ایران سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مجوزہ فوجی کارروائی کو روک دیا ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے لیے موقع فراہم کیا جا سکے۔ اس بیان کے بعد عالمی منڈی میں دباؤ میں کمی دیکھی گئی جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں فوری کمی واقع ہوئی۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اس سے قبل اسٹریٹ آف ہرمز میں ترسیل متاثر ہونے کے خدشات بھی سامنے آ چکے ہیں، جو عالمی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی نقل و حمل کا اہم راستہ ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے روسی تیل سے متعلق پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے بعض ممالک کے لیے تیل کی خریداری کی اجازت میں 30 دن کی توسیع بھی کر دی ہے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق عالمی ذخائر میں تبدیلی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال آئندہ دنوں میں بھی خام تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔





