200 یونٹس تک بجلی صارفین کی سبسڈی ختم ہونے کی خبریں بے بنیاد، وزارتِ توانائی کی تردید

وزارتِ توانائی نے ان خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے سبسڈی ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ترجمان وزارتِ توانائی کے مطابق فی الحال ایسی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں ہے اور عوامی ریلیف کا یہ سلسلہ بدستور جاری رہے گا۔

اس سے قبل ڈسکوز ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ حکام نے ایسے صارفین کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے جو ایک ہی گھر میں ایک سے زائد میٹرز یا سولر سسٹم کا استعمال کر رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ بعض کیسز میں سبسڈی کے غلط استعمال کا خدشہ ہے جس کی روک تھام کے لیے کیو آر کوڈ کے ذریعے صارفین کا ڈیٹا چیک کیا جا رہا ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ان صارفین کو ماہانہ تقریباً 5 ہزار روپے کا ریلیف مل رہا ہے اور اگر یہ سبسڈی ختم کی گئی تو 2 ہزار روپے کا بل بڑھ کر 7 ہزار روپے تک پہنچ سکتا ہے۔

تاہم وزارتِ توانائی کے ترجمان نے ان تمام قیاس آرائیوں کو خارج کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایک گھر میں ایک سے زائد میٹر ہونے یا الگ پورشن میں بھائیوں کے الگ رہنے کی صورت میں رعایت روکنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ترجمان نے مزید تشریح کی کہ بجلی کے بلوں پر کیو آر کوڈ چھاپنے کا مقصد کسی قسم کی کٹوتی نہیں بلکہ صرف صارفین کو فراہم کی جانے والی ماہانہ سبسڈی کی تفصیلات سے آگاہ کرنا ہے۔

وزارتِ توانائی نے اپنے مؤقف میں دہرایا ہے کہ حکومت کا اصل مقصد عوام کو سہولت اور آسانی فراہم کرنا ہے، اس لیے اس ریلیف کو ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

Scroll to Top