امریکا ایران کشیدگی میں کمی کے آثار؛ پاکستان اور خلیجی ممالک کی ثالثی رنگ لے آئی

امریکا اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی محاذ پر اہم پیش رفت کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں، تاہم خطے کی مجموعی صورتحال اب بھی غیر یقینی کا شکار ہے۔

عالمی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معروف امریکی صحافی اور خارجہ امور کے تجزیہ کار الیکس مارکیورڈ نے انکشاف کیا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دھمکیوں میں تیزی آئی ہے، لیکن پسِ پردہ پاکستان اور خلیجی ممالک کی شمولیت سے سفارتی رابطے دوبارہ متحرک ہو گئے ہیں۔

تجزیہ کار کے مطابق متحدہ عرب امارات، قطر اور سعودی عرب جیسے ممالک نے واشنگٹن کو مزید فوجی کشیدگی کے خطرناک دہانے سے پیچھے ہٹانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

اب یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس بحران سے نکلنے کا راستہ چاہتے ہیں اور ان کی ترجیح اسے سفارتی طریقے سے حل کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مضر صحت لسی پینے سے 3 بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی حالت غیر

الیکس مارکیورڈ نے مزید بتایا کہ جہاں ایک طرف امریکا اب بھی آپریشن سلیج ہیمر جیسی فوجی کارروائیوں کا اشارہ دے رہا ہے، وہیں مذاکرات کا اصل مرکز آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہو سکتا ہے، کیونکہ عالمی تجارتی راستوں کی بحالی اس وقت سب سے بڑی ترجیح ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات مرحلہ وار آگے بڑھیں گے، جن کے ابتدائی مرحلے میں پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی جیسے اقتصادی اقدامات پر توجہ دی جائے گی، جبکہ جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ معاملات کو فی الحال مؤخر کیا جا سکتا ہے۔

Scroll to Top